روزانہ 1700 سے 5500 اضافی قدم چل کر آپ متعدد دائمی امراض بشمول موٹاپے اور ذیابیطس کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے دائمی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔خاص طور پر بیٹھ کر وقت گزارنے سے موٹاپے، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ فیلیئر، امراض قلب، گردوں کے امراض، جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے، پھیپھڑوں کے امراض، ڈپریشن، سلیپ اپنیا اور دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کا خطرہ بڑھتا ہے۔تحقیق کے دوران دیکھا گیا تھا کہ روزانہ کے معمول میں اضافی قدموں کے اضافے سے ان امراض کا خطرہ کتنا کم ہوتا ہے۔تحقیق کے دوران 15 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو ٹریکرز کے ذریعے اکٹھا کیا گیا گیا۔پھر ان افراد کے قدموں کی تعداد کا موازنہ امراض کے خطرے سے کیا گیا۔تحقیق کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کتنے قدم چلنے سے متعدد دائمی امراض کا خطرہ گھٹ جاتا ہے، خاص طور پر ایسے افراد میں جو دن بھر میں 8 سے 14 گھنٹے بیٹھ کر گزارنے کے عادی ہوتے ہیں۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ کے قدموں میں 1700 سے 5500 قدموں کا اضافہ متعدد دائمی امراض کا خطرہ کم کر دیتا ہے۔مثال کے طور پر 1700 اضافی قدموں سے موٹاپے اور جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔2200 قدم ہائی بلڈ پریشر اور سلیپ اپنیا سے تحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ 5300 سے 5500 قدم چلنے سے ذیابیطس اور پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔محققین نے بتایا کہ جسمانی سرگرمیاں صحت کے لیے بہترین ہوتی ہیں اور یہ حقیقی دنیا کا ڈیٹا تھا تو نتائج کافی حد تک ٹھوس ہیں۔انہوں نے کہا کہ چلنا ایسی سرگرمی ہے جو ہر فرد آسانی سے اپنا سکتا ہے کیونکہ بیشتر افراد کے لیے متعدل سے سخت ورزشوں کو معمول بنانا آسان نہیں ہوتا۔




