سرچ براؤزرز کے میدان میں گوگل کے غلبے کو خطرہ پڑ گیا ہے، اوپن اے آئی (AI) نے منگل کے روز مصنوعی ذہانت سے چلنے والے اپنا براؤزر (ChatGPT Atlas) لانچ کر دیا ہے۔اوپن آے آئی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ براؤزر ابتدا میں صرف macOS پر دستیاب ہوگا، جبکہ جلد ہی اس کے Windows، iOS اور Android ورژن بھی پیش کیے جائیں گے، اور چیٹ جی پی ٹی اٹلس تمام مفت صارفین کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔ماہرین کے مطابق ویب براؤزرز اب ایک نیا میدان ہے جہاں آرٹیفشل انٹیلیجنس کی دوڑ شروع ہو گئی ہے، اور اس میدان میں گوگل کروم بدستور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا براؤزر ہے، مگر AI فیچرز کی دوڑ میں اب اس کی اجارہ داری کو نئے AI پر مبنی براؤزرز سے چیلنج مل رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس اور ایجنٹس نے ویب براؤزنگ کا طریقہ بدل دیا ہے اور صارفین براہِ راست سوال پوچھ کر، مواد خلاصہ کروا کر یا خودکار کام کروا کر براؤزر استعمال کر رہے ہیں۔اوپن اے آئی کے انجینئرنگ لیڈ بین گوڈجر نے براہِ راست نشریات کے دوران بتایا کہ ان کے براؤزر میں چیٹ جی پی ٹی کا بنیادی کردار ہے، صارفین اب اپنے سرچ نتائج سے براہِ راست گفتگو کر سکیں گے۔چیٹ جی پی ٹی اٹلس کا سب سے نمایاں فیچر اس کا ’’سائیڈ کار‘‘ پینل ہے، جو براؤزر میں ایک اسمارٹ معاون کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ پینل خودکار طور پر صارف کے سامنے موجود ویب پیج کا مواد پڑھ کر چیٹ جی پی ٹی کو اس صفحے کا سیاق و سباق فراہم کرتا ہے، اس فیچر کی بدولت صارفین کو اب بار بار ٹیکسٹ کاپی کرنے یا لنکس ڈریگ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔اوپن اے آئی کے پروڈکٹ لیڈ ایڈم فرائی کے مطابق اٹلس میں یہ فیچر مکمل طور پر شامل ہوگا، جب کہ اس میں ایک “براؤزر ہسٹری” فیچر بھی دیا گیا ہے جو صارف کے وزٹ کیے گئے ویب صفحات کو محفوظ رکھتا ہے تاکہ جوابات مزید ذاتی نوعیت کے ہوں۔ جب کہ ’’ایجنٹ موڈ‘‘ فیچر کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی صارف کی جانب سے آن لائن چھوٹے کام خود انجام دے سکے گا۔




