اکتوبر 3, 2026

امریکا ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد نہیں کرے گا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد نہیں کرے گا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب G7 ممالک نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے ہنگامی ذخائر سے مجموعی طور پر 10 کروڑ بیرل خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات جاری کرنے پر اتفاق کیا۔امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ ڈیزل کی برآمد محدود یا عارضی طور پر روکنے کے امکان پر غور کر رہی تھی۔ٹرمپ نے 22 ستمبر کو خود بھی ڈیزل برآمدات پر پابندی کی حمایت کا اظہار کیا تھا، جبکہ امریکی توانائی حکام نے خبردار کیا تھا کہ مکمل پابندی سے ریفائنری پیداوار اور دیگر ایندھن کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔بعد ازاں ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا ڈیزل ایکسپورٹ پابندی نہیں لگائے گا۔ یہ فیصلہ G7 کے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔اس ضمن میں تقریباً 100 ملین بیرل تیل اور پٹرولیم مصنوعات جاری کی جائیں گی۔ اس میں ڈیزل کی قابلِ ذکر مقدار پہلے 20 دنوں میں مارکیٹ میں لانے کا منصوبہ ہے۔مجموعی اجرا تقریباً چار ماہ جاری رہے گا۔ G7 ممالک نے توانائی کی مصنوعات کی باہمی برآمد پر پابندیاں نہ لگانے کا عہد بھی کیا ہے۔