قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ختم کرانے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات پہنچا رہا ہے اور فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ قطر کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور اس وقت امریکی اور ایرانی فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قطر کا مقصد دونوں جانب کے مؤقف میں مشترکہ بنیاد تلاش کرنا اور تنازع کا پرامن حل نکالنے میں مدد دینا ہے۔ماجد الانصاری سے جب ایران پر بڑے پیمانے پر ممکنہ امریکی فوجی حملے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ قطر خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی میں اضافے پر تشویش رکھتا ہے اور ایک پرامن حل تلاش کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔قطری حکام کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان متعدد ملاقاتیں اور پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ بعض رابطے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھی ہوئے، جبکہ قطر دونوں فریقوں کے درمیان مزید رابطوں اور ملاقاتوں کی سہولت کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر اختلافات برقرار ہیں۔ قطر کی ثالثی میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی، علاقائی سلامتی اور مستقبل میں کشیدگی سے بچنے کے لیے انتظامات بھی اہم موضوعات میں شامل ہیں قطری ترجمان نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں موجود ہیں، تاہم ثالثی کا مقصد مشکلات دور کرنا، دونوں فریقوں کے درمیان خلیج کم کرنا اور ایسے حل کی تلاش ہے جو خطے میں امن اور معمول کی صورتحال بحال کرنے میں مدد دے۔قطر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ خطے کے ممالک کو مزید جنگ اور کشیدگی سے بچانے کے لیے مذاکرات، بقائے باہمی اور ایک دوسرے کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے اصولوں پر مبنی علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی ضرورت ہے۔




