ستمبر 22, 2026

آئی پی ایل میں میچ فکسنگ کے تہلکہ خیز انکشافات، کھلاڑی نے اعتراف کرلیا

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ایک بار پھر مبینہ کرپشن کے الزامات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔بھارتی تحقیقاتی ادارے تہلکہ کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کی خفیہ کیمرہ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی پی ایل 2025 کے دوران ٹیموں کی پلیئنگ الیون سے متعلق معلومات مبینہ طور پر لندن میں موجود سٹے بازوں تک پہنچائی جاتی رہیں۔رپورٹ میں سابق فرسٹ کلاس کرکٹر رچت بھاٹیہ کا نام سامنے آیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر چنئی سپر کنگز کی ٹیم سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے عوض فی میچ 60 لاکھ روپے لینے کا اعتراف کیا۔سابق کرکٹر نے گزشتہ دسمبر میں رپورٹرز کو میچ فکسنگ کی سرگرمیوں اور اپنے کردار سے آگاہ کیا۔تہلکہ کے مطابق یہ معلومات اسنیپ چیٹ کے ذریعے لندن میں موجود بکیز تک پہنچائی جاتی تھیں اور پانچ میچز سے مبینہ طور پر تقریباً 3 کروڑ روپے حاصل کیے گئے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ معلومات فراہم کرنے والا کھلاڑی ایک نوجوان وکٹ کیپر بیٹر تھا جس کی شناخت بعد میں کرکٹ صحافی پرتیش ہلدر نے ایکس پر ونش بیدی کے طور پر کی۔بیدی کو چنئی سپر کنگز نے آئی پی ایل 2025 کی نیلامی میں 55 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔تہلکہ کی رپورٹ میں بھاٹیہ کے حوالے سے 2018-19 کے سید مشتاق علی ٹرافی میں مبینہ اسپاٹ فکسنگ کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔کرکٹر نے اعتراف کیا کہ سٹے بازوں سے رقم لینے کے عوض جان بوجھ کر دو گیندیں وائیڈ کرائیں۔ ایک وائیڈ گیند کے آٹھ لاکھ روپے طے ہوئے تھے جبکہ رانجی ٹرافی کی ایک ٹیم میں جگہ یقینی بنانے کے لیے رشوت دی تھی۔بعد ازاں مبینہ سرگرمیوں کا دائرہ دہلی پریمیئر لیگ تک پھیلنے کا بھی دعویٰ سامنے آیا جہاں پلیئنگ الیون کی معلومات کے عوض فی میچ 40 لاکھ روپے کی رقم کا ذکر کیا گیا۔بی سی سی آئی نے تاحال ان الزامات پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔