جولائی 28, 2026

مون سون سیزن میں غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی، فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کے خطرات

پاکستان میں رواں برس کے مون سون سیزن میں غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ہیڈکوارٹرز میں وفاقی وزرا کو دی گئی بریفنگ کے دوران بتایا گیا ہےکہ رواں برس مون سون سیزن کے دوران غیر معمولی بارشوں کا امکان ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات واصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی کی لہروں کو روکنا ممکن نہیں، تاہم مؤثر منصوبہ بندی، بروقت تیاری اور مربوط حکومتی اقدامات کے ذریعے انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزراء کے ساتھ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے دورہ کے موقع پر نیوز بریفنگ دیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی استعدادِ کار اور پیشگی تیاری میں مسلسل بہتری لائی جا رہی ہے۔گزشتہ سال شدید سیلاب کے باوجود بروقت ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں کی بدولت انسانی جانوں کا نقصان نسبتاً کم رہا، جو اداروں کی بہتر تیاری اور مؤثر ردعمل کا نتیجہ ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر گلیشیئرز کے پگھلنے سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے نگرانی اور پیشگی انتباہی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔اسی طرح وزارتِ قومی غذائی تحفظ چین کے تعاون سے ایک بڑے پروگرام پر عمل درآمد کر رہی ہے، جس کا مقصد زرعی تحقیق کو فروغ دینا، ماہر افرادی قوت تیار کرنا اور ایسی نئی فصلوں کی اقسام متعارف کرانا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں اور سخت موسمی حالات کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ خزانہ نے ماضی کی طرح اب بھی موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے درکار مالی وسائل کی بروقت فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ وزارتِ آبی وسائل وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی بروقت تکمیل سے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھے گی اور سیلابی خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ نیشنل فلڈ پروٹیکشن پروگرام کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس پر وفاق اور صوبے مل کر عمل درآمد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ اطلاعات عوام کو بروقت آگاہی اور درست معلومات کی فراہمی کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ حکومت کی "ہول آف گورنمنٹ اپروچ” کے تحت تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے نقصانات کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ تجربات سے واضح ہوا ہے کہ انتظامی صلاحیت میں مزید بہتری کی ضرورت ہے، خصوصاً ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو فعال اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ہنگامی حالات میں فنڈز کی فوری منظوری، وسائل کی بروقت فراہمی، مشینری کی تیز رفتار تعیناتی اور حفاظتی تعمیراتی کاموں کے لیے ایمرجنسی پروٹوکول کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مؤثر، بااختیار اور فعال ضلعی حکومتوں کے بغیر نہ صرف موسمیاتی تبدیلی بلکہ صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں میں بھی مؤثر خدمات کی فراہمی ممکن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مضبوط مقامی حکومتیں ہی عوام کو فوری ریلیف اور بہتر سروس ڈیلیوری فراہم کر سکتی ہیں۔وفاقی وزیر نے سفارش کی کہ تمام صوبے موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب سے متعلق منصوبوں کے لیے "گرین چینل” قائم کریں تاکہ ایسے منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کی فراہمی کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر یقینی بنایا جا سکے، جس سے مستقبل میں قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کو مزید کم کیا جا سکے۔احسن اقبال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پرایمرجنسی رسپانس کمیٹی روز کی بنیاد پر میٹنگ کررہی ہے۔وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے بتایا کہ بالائی خیبرپختونخوا اور شمالی علاقوں میں بارشیں زیادہ جب کہ میدانی علاقوں میں کم ہوں گی،دونوں کے لیے حکمت عملی بنائی جارہی ہے۔وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ارلی وارننگ سسٹم کیلئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کیا، ارلی وارننگ اور مؤثر آگاہی کی بدولت نقصانات میں کمی ممکن ہوئی۔اس کے علاوہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ تباہ کن سیلابوں کے معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہورہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آبادی کیلئے چیلنجز سے نمٹنےکیلئے مؤثر آگاہی ضروری ہے۔