واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران گزشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 7 جولائی سے اب تک مختلف حملوں اور فوجی کارروائیوں کے دوران تقریباً 100 امریکی اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے 96 فیصد علاج کے بعد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، جبکہ باقی اہلکاروں کا علاج جاری ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ دفاع نے جمعہ کے روز ایران سے منسوب حملوں میں ہلاک ہونے والے مزید دو امریکی فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کی۔اس سے قبل پینٹاگون صرف اتنا بتا چکا تھا کہ 28 فروری سے اب تک ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں اور حملوں میں 14 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 427 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی عراق اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے ایرانی حملوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج اردن میں حملے کے مقام سے ملنے والے بعض ناقابلِ شناخت انسانی اعضا کا فرانزک جائزہ لے رہی ہے، جس سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ امریکا اس سے قبل ایران کے حملوں میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر چکا ہے، جبکہ ایک فوجی کے لاپتا ہونے کی بھی اطلاع دی گئی تھی۔ گزشتہ روز امریکی فوج نے یہ بھی بتایا تھا کہ 18 جولائی کو شمالی عراق میں ایک کارروائی کے دوران ایک امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوا۔دفاعی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی فوج کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے، جبکہ خطے میں جاری فوجی کارروائیاں دونوں ممالک کے درمیان تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔




