ناروے کے معروف تحقیقی ادارے پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ اوسلو کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 میں دنیا بھر میں ریاستی تنازعات کی تعداد دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ اسرائیل کو دنیا کے سب سے زیادہ جارح ممالک میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں کم از کم 65 ایسے تنازعات ریکارڈ کیے گئے جن میں ایک یا ایک سے زیادہ ریاستیں براہِ راست شامل تھیں۔ یہ تعداد 1946 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔تحقیقی ادارے کی ماہر سیری آس روسٹاڈ نے کہا کہ اسرائیل 2025 کے دوران کم از کم پانچ مختلف تنازعات میں شامل رہا، جن میں غزہ، لبنان، شام، ایران اور یمن کے حوثی گروپ کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے اسرائیل کو موجودہ دور کے سب سے جارح ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں امریکا کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی، تجارتی رکاوٹوں اور بین الاقوامی تقسیم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔مطالعے کے مطابق 2025 میں ریاستوں کے درمیان براہِ راست جنگی تنازعات کی تعداد بھی دوگنی ہو کر آٹھ تک پہنچ گئی۔ ان تنازعات میں روس اور یوکرین کی جنگ، اسرائیل کی شام میں فوجی کارروائیاں، بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی، افغانستان اور پاکستان کے درمیان جھڑپیں اور کمبوڈیا و تھائی لینڈ کے درمیان تنازع شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تیسرا سب سے خونریز سال ثابت ہوا۔ گزشتہ سال تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار افراد جنگی کارروائیوں اور سیاسی تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔تشویشناک بات یہ ہے کہ عام شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنانے والے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد بھی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی۔ 2024 میں جہاں ایسی ہلاکتیں تقریباً 14 ہزار 200 تھیں، وہیں 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 76 ہزار 500 تک پہنچ گئی۔رپورٹ کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ سوڈان میں فوج اور نیم فوجی گروپوں کے درمیان جاری جنگ ہے، جہاں دارفور کے شہر الفاشر میں محاصرے اور قتلِ عام کے واقعات میں اندازاً 60 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔محققین کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سے چھ برسوں کے دوران دنیا میں بیک وقت کئی بڑے تنازعات جاری رہے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر امن اور استحکام کا دورانیہ تقریباً ختم ہو گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق افریقہ دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا جہاں 29 ریاستی تنازعات ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے بعد ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، امریکا اور یورپ کا نمبر آتا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں عالمی امن کو مزید سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔




