کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر آپ روزانہ 6 گھنٹے سے کم سونے کے عادی ہیں تو اس کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟یقین کرنا مشکل ہوگا مگر یہ ایک عادت متعدد امراض کا شکار بناسکتی ہے جبکہ دیگر مسائل الگ ہیں۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ موجودہ عہد میں اسمارٹ ڈیوائسز کے باعث لوگ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوچکے ہیں جس کے باعث نیند کا دورانیہ گھٹ رہا ہے۔تو 6 گھنٹے سے کم نیند کے جسم پر مرتب اثرات کے بارے میں جان لیں۔
مزاج متاثر ہوتا ہے
بے خواب راتوں کے نتیجے میں چڑچڑے پن اور جذباتی پن کی شکایت عام ہوجاتی ہے۔ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی سے منفی جذبات بڑھتے ہیں جس کا نتیجہ چڑچڑے پن کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ دفتر کے اندر بھی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
سر درد
نیند کی کمی کے شکار افراد کو اکثر سر درد کا سامنا بھی ہوتا ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق نیند کی کمی سے دماغ کی تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے، تناؤ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح بڑھتی ہے جبکہ خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سر درد یا مائیگرین کا سامنا ہوتا ہے۔
موٹاپے کا خطرہ بڑھتا ہے
نیند کی کمی سے جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ بڑھتا ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق نیند کی کمی سے بھوک اور کھانے کی خواہش میں اضافہ ہوتا ہے جس سے جسمانی وزن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 6 گھنٹے سے کم وقت کی نیند سے موٹاپے کا خطرہ 30 فیصد بڑھ جاتا ہے۔بے خوابی کے شکار افراد میں زیادہ چربی اور چینی والی غذاؤں کی خواہش بڑھ جاتی ہے اور یہ غذائیں موٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔
بینائی متاثر ہوسکتی ہے
نیند کی کمی سے بینائی کی کمزوری اور دھندلے پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کی کمی کے باعث خشک آںکھوں کا خطرہ بڑھتا ہے جس سے بینائی کمزور ہوسکتی ہے۔
امراض قلب
نیند کی کمی کے نتیجے میں امراض قلب، ہارٹ اٹیک، دل کی دھڑکن کی رفتار میں بے ترتیبی، ہائی بلڈ پریشر، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
جسمانی ردعمل کی رفتار گھٹ جاتی ہے
جب نیند پوری نہ تو جسمانی ردعمل کی رفتار بھی گھٹ جاتی ہے۔ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو فوری فیصلے کرنے کے ٹاسک دئے گئے، جن میں سے کچھ کو ٹیسٹ کے دوران سونے کی اجازت دی گئی جبکہ دیگر کو نہیں۔جن کو سونے کا موقع ملا انہوں نے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھائی جبکہ دیگر افراد کی کارکردگی بدتر اور ردعمل بہت سست رہا۔
اکثر بیمار ہو جاتے ہیں
نیند کی کمی سے جسم کی امراض سے لڑنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آپ بہت آسانی سے کسی بھی بیماری کے شکار ہو جاتے ہیں۔محققین نے نیند اور مدافعتی نظام کے درمیان ایک تعلق کو دریافت کیا ہے اور جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو نیند کی کمی کا دورانیہ بھی بڑھ جاتا ہے۔کسی ایسے کام کو کرنے میں جدوجہد کرنا پڑتی ہے جس میں زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے؟
تو اس کی ایک بڑی وجہ نیند کی کمی ہوسکتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق نیند کی کمی سے ذہن غنودگی میں رہتا ہے اور توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے
نیند کی کمی کے نتیجے میں وقت گزرنے کے ساتھ ڈپریشن کی علامات کا خطرہ بڑھتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈپریشن یا انزائٹی کے مریض عموماً ہر رات 6 گھنٹے سے کم سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بے خوابی کے شکار افراد میں ڈپریشن کی تشخیص کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ڈپریشن کے شکار افراد کے لیے سونا مشکل ہوتا ہے تو نیند کی کمی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
پیٹ کے امراض
معدے میں سوجن کے امراض نیند کی کمی کے نتیجے میں بدتر ہوجاتے ہیں۔
7 سے 8 گھنٹے کی نیند پیٹ کے امراض سے کافی حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے مگر نیند کی کمی سے ان امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ذیابیطس کا سامنا ہوسکتا ہے
نیند کے دوران ہمارا جسم میٹابولزم میں آنے والی خرابیوں کو دور کرتا ہے تاہم زیادہ وقت جاگ کر گزارنے کے نتیجے میں انسولین کی حساسیت گھٹ جاتی ہے۔انسولین کی حساسیت میں کمی سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھتا ہے۔ایک تحقیق میں کم سونے کو معمول بنانے اور ذیابیطس کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی۔
جلد بڑھاپا طاری ہو سکتا ہے
محض چند راتوں کو کم سونے سے آنکھوں کے اردگرد سیاہ حلقے نمایاں ہو جاتے ہیں جبکہ وہ پھول بھی جاتی ہیں۔مگر ہر رات 6 گھنٹے سے کم نیند کو عادت بنا لیا جائے تو چہرے پر جھریاں بھی ابھرنے لگتی ہیں جبکہ جِلد کی لچک گھٹ جاتی ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق ناکافی نیند سے جسم میں تناؤ کا باعث بننے والے ہارمون کورٹیسول کا اخراج ہوتا ہے اور اس سے جِلد کی صحت متاثر ہوتی ہے۔
یاداشت کے مسائل
درمیانی عمر میں نیند کی کمی سے دماغی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں جو کہ طویل المعیاد یاداشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ سوتے ہیں ان کی یاداشت بھی اچھی ہوتی ہے۔
بانجھ پن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے
ایک تحقیق کے مطابق مناسب نیند سے محرومی کے نتیجے میں بانجھ پن کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، خاص طور پر اگر خواتین 7 گھنٹے سے کم ہونے کی عادی ہوں تو ان میں حمل ٹھہرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند جسمانی ہارمون نظام پر اثرانداز ہوتی ہے اور بہت کم نیند سے خواتین کا ہارمون نظام متاثر ہوتا ہے جس سے بانجھ پن کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ایک دوسری تحقیق میں یہی بات مردوں کے بارے میں بھی سامنے آئی کہ کم نیند کے نتیجے میں اولاد سے محرومی کا خدشہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر چھ گھنٹے سے کم نیند سے یہ خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
زیادہ بھوک لگتی ہے
اگر دماغ کو وہ توانائی نہیں ملتی جو نیند سے حاصل ہوتی ہے تو اس کے حصول کے لیے وہ خوراک کو ذریعہ بناتا ہے۔نیند کی کمی کے نتیجے میں بھوک بڑھانے والے ہارمون گیرلین بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور ہمارا جسم چکنائی اور میٹھے کی زیادہ خواہش کرنے لگتا ہے۔نیند کی کمی سے بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمون کی سطح گھٹ جاتی ہے اور لوگ ضرورت سے زیادہ کھانے لگتے ہیں۔
تنہائی کا احساس
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیند کی کمی کے نتیجے میں نوجوان سماجی طور پر لوگوں سے گھلنے ملنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں جبکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ دنیا سے کٹ کر الگ تھلگ ہوچکے ہیں۔حالات اس وقت مزید بدتر ہوجاتے ہیں جب تنہائی محسوس کرنے والے افراد نیند پوری کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
الزائمر امراض
متعدد تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ نیند کے دوران دماغی صفائی کا عمل مکمل ہوتا ہے اور ایسے پروٹین کا اخراج ہوتا ہے جن کو الزائمر امراض سے منسلک کیا جاتا ہے۔نیند کی کمی سے بتدریج اس پروٹین کی مقدار بڑھنے لگتی ہے اور نیند سے بھی صفائی مشکل ہوجاتی ہے، نیند کا شیڈول جتنا خراب ہوگا، الزائمر امراض کا خطرہ اتنا ہی زیادہ بڑھ جائے گا۔
مسلز کی کمزوری
نیند کی کمی سے ہارمونز کے نظام میں تبدیلیاں آتی ہیں اور جسم کے لیے مسلز بنانے اور کمزوری دور کرنا مشکل تر ہوتا جاتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیند کے دوران جسم میں نشوونما بڑھانے اور نقصان کی مرمت کرنے والے ہارمون کا اخراج بڑھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فٹنس ماہرین بھی جسم بنانے کے شوقین افراد کو مناسب نیند کا مشورہ دیتے ہیں۔
سارا سال ہر جگہ آسانی سے دستیاب اس بہترین پھل کے فوائد حیران کر دینے والے ہیں
موت کا خطرہ بڑھتا ہے
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر رات 6 گھنٹے سے کم وقت سونے کے عادی افراد میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ دگنا بڑھ جاتا ہے۔
یہ تحقیق 10 ہزار افراد پر 2 دہائیوں تک جاری رہی تھی جس کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔




