جون 7, 2026

نیتن یاہو کی نئی حکمت عملی بے نقاب؟ امریکی سینیٹر نے فوجی معاہدے کی مخالفت کر دی

واشنگٹن: امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کانگریس میں زیر غور ایک ایسے قانون کی مخالفت کا اعلان کیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے اسرائیل اور امریکا کے درمیان فوجی تعاون مزید گہرا ہو جائے گا اور امریکی ٹیکس دہندگان پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں برنی سینڈرز نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جانتے ہیں کہ امریکی عوام اسرائیل کی جنگوں کے لیے مسلسل مالی معاونت فراہم کرنے سے تنگ آ چکے ہیں، اسی لیے اب وہ کانگریس کے ساتھ مل کر فوجی امداد کو پینٹاگون کے مشترکہ پیداواری معاہدوں کے اندر شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سینڈرز کے مطابق اس تجویز کو بظاہر امریکا کی براہِ راست فوجی امداد میں کمی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے نتیجے میں اسرائیل کو امریکی ٹیکس دہندگان کے مزید فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اس اقدام کی مخالفت کریں گے اور اسے منظور نہیں ہونے دیں گے۔یہ شق امریکا کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ میں شامل کی گئی ہے، جس پر کانگریس میں بحث جاری ہے۔برنی سینڈرز کے علاوہ امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان رو کھنہ اور تھامس میسی نے بھی اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔مبصرین کے مطابق یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد اور مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں پر سیاسی بحث میں شدت آ رہی ہے، جبکہ کئی قانون ساز امریکی وسائل کے استعمال اور بیرونی جنگوں میں واشنگٹن کے کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔