مئی 25, 2026

تیزی سے وزن کم کرنا آہستہ ڈائٹنگ سے زیادہ مؤثر قرار: نئی تحقیق

یورپی کانگریس آن اوبیسٹی میں پیش کی گئی ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ تیزی سے وزن کم کرنا طویل مدت میں روایتی آہستہ اور مستقل ڈائٹنگ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔52 ہفتوں پر مشتمل اس کلینیکل ٹرائل میں 284 زائد وزن اور موٹاپے کا شکار افراد کو شامل کیا گیا، جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ نے تیزی سے وزن کم کرنے والی ڈائٹ اپنائی جبکہ دوسرے نے بتدریج وزن کم کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔تحقیق کے مطابق پہلے 16 ہفتوں میں تیزی سے وزن کم کرنے والے گروپ کو انتہائی کم کیلوریز والی ڈائٹ دی گئی، جس میں ابتدا میں روزانہ 1000 سے بھی کم کیلوریز شامل تھیں، بعد ازاں اسے بڑھا کر تقریباً 1500 کیلوریز تک لایا گیا۔ دوسری جانب دوسرے گروپ نے روزانہ اوسطاً 1400 کیلوریز پر مشتمل معتدل غذا استعمال کی۔ماہرین کے مطابق ابتدائی مرحلے کے بعد دونوں گروپس کو 36 ہفتوں کے ایک ویٹ مینٹیننس پروگرام میں شامل کیا گیا، جس میں کوچنگ، رہنمائی اور مسلسل سپورٹ فراہم کی گئی تاکہ دوبارہ وزن بڑھنے سے بچا جا سکے۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تیزی سے وزن کم کرنے والے افراد نے ابتدائی 16 ہفتوں میں اپنے جسمانی وزن کا تقریباً 13 فیصد کم کیا، جبکہ بتدریج ڈائٹنگ کرنے والوں میں یہ شرح صرف 8 فیصد سے کچھ زائد رہی۔سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ جن افراد نے تیزی سے وزن کم کیا، وہ ایک سال بعد بھی نسبتاً زیادہ وزن کم رکھنے میں کامیاب رہے، ایسے افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور جوڑوں کے درد جیسے مسائل کے خطرات بھی کم دیکھے گئے۔