برطانوی پولیس نے امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق ایپسٹین فائلز میں سابق برطانوی سفیر برائے امریکا پیٹر مینڈلسن کا نام سامنے آنے کے بعد انہیں گرفتار کرلیا۔پولیس نے لندن میں سابق سفیر پیٹر مینڈلسن کو سرکاری عہدے کا غلط استعمال کے الزام میں گرفتار کیا۔ ان کے خلاف یہ کارروائی ایپسٹین فائلز میں ان کے گہرے روابط ظاہر ہونے کے بعد شروع ہوئی۔عدالت اور پولیس کا کہنا ہے کہ مینڈلسن نے سنہ 2009 اور 2010 کے دوران حساس سرکاری معلومات ایپسٹین کو فراہم کی تھیں جب وہ برطانیہ کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز تھے۔ان پر جنسی جرائم کا الزام تو نہیں ہے بلکہ عہدے کا غلط استعمال اور ممکنہ طور پر معلومات کا غیر قانونی تبادلہ شامل ہے۔ پولیس نے مینڈلسن کو بعد از تفتیش ضمانت پر رہا تو کردیا ہے لیکن تحقیقات جاری ہیں۔یہ گرفتاری اس وقت سامنے آئی ہے جب ایپسٹین فائلز میں نامور شخصیات کے تعلقات بشمول سابق پرنس اینڈریو منظر عام پر آئے ہیں۔برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر پر بھی سخت تنقید ہورہی ہے کیونکہ انہوں نے پہلے مینڈلسن کو امریکی سفیر مقرر کیا تھا جبکہ ان کے ایپسٹین سے روابط کے بارے میں پہلے سے معلومات موجود تھیں۔




