اپریل 21, 2026

پاکستانی شہریوں کیلئے بھارت چھوڑنے کی آج آخری تاریخ،ناکامی پر کیا سزا؟

پاکستانی شہریوں کیلئے بھارت چھوڑنے کی آج آخری تاریخ ہے۔ اگر وہ پاکستان واپس نہیں جا سکے تو ان کے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے؟ کوئی بھی پاکستانی جو بھارتی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وقت کی حد کے اندر بھارت چھوڑنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے گرفتار کیا جائے گا یا اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا؟ بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق سارک ویزا ہولڈرز کے لئے بھارت چھوڑنے کی آخری تاریخ 26 اپریل تھی۔ میڈیکل ویزا رکھنے والوں کے لیے آخری تاریخ 29 اپریل ہے۔ ویزہ ہولڈرز کی 12 کیٹیگریز جنہیں اتوار تک بھارت چھوڑنا ضروری ہے وہ ہیں، جنہیں بھارت آمد پر بزنس، فلم، صحافی، ٹرانزٹ، کانفرنس، کوہ پیمائی، طالب علم، وزیٹر، گروپ ٹورسٹ، تیرتھ یاتری اور گروپ تیرتھ یاتری کا ویزا دیا جاتا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقیپہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے حملے کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستانی شہریوں کو ’بھارت چھوڑو‘ کا نوٹس جاری کیا تھا۔اگر کوئی بھی پاکستانی جو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وقت کی حد کے اندر بھارت چھوڑنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے گرفتار کیا جائے گا، اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا اور اسے تین سال تک قید یا تین لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ واضح رہیکہ4 اپریل کو نافذ ہونیوالے بھارتی امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025 کے مطابق زائد قیام، ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی یا غیر مجاز علاقوں میں داخل ہونے پر تین سال تک کی قید اور 3 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعہ کو تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو فون کیا اور ان سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی پاکستانی ملک چھوڑنے کی مقررہ مدت سے زیادہ بھارت میں نہ رہے۔بھارت کے تمام وزرائے اعلیٰ کے ساتھ امیت شاہ کی ٹیلی فون پر ہوئی بات چیت کے بعد بھارت کے مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن نے چیف سکریٹریوں کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس کی اور ان سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستانی شہری جن کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں وہ مقررہ وقت کے اندر بھارت چھوڑ دیں۔