مئی 1, 2026

شیخ حسینہ سے تعلق رکھنے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ مصیبت میں پڑ گئی

برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق، جو بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی بھانجی ہیں، کرپشن الزامات کے باعث سخت دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ کی بھانجی پر الزام ہے کہ وہ اور ان کا خاندان بنگلہ دیش کی حکومت کی طرف سے تحفے میں دی گئی لندن کی جائیدادوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹیولپ صدیق لندن میں ان جائیدادوں میں رہ رہی ہیں، جو مبینہ طور پر کرپشن سے حاصل کی گئی ہیں ,محمد یونس نے ان جائیدادوں کی دھوکہ دہی اور غبن کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔42 سالہ ٹیولپ صدیق، جو ہیمپسٹڈ اور ہائی گیٹ کی نمائندگی کرتی ہیں اور برطانیہ کی حکومت میں انسداد بدعنوانی کی وزیر ہیں, نے کہا ہے کہ انہوں نے "کچھ غلط نہیں کیا۔” انہوں نے معاملے کی تحقیقات کے لیے خود کو آزاد مشیر کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم کیر سٹارمر نے ٹیولپ صدیق پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے مناسب طریقے سے کام کیا ہے۔ تاہم، قدامت پسند رہنما کیمی بیڈینوچ نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ” وزیر اعظم نے اپنے ذاتی دوست کو بدعنوانی کے الزامات کے باوجود عہدے پر تعینات کیا ہے۔” برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ "الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور حکام کو آزادانہ طور پر انکوائری کرنے کی اجازت دی جائے گی, اس دوران ٹیولپ صدیق اپنے عہدے پر برقرار رہیں گی۔” یہ معاملہ نہ صرف برطانیہ بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ اس کا تعلق بنگلہ دیش کی سابق حکومت اور شیخ حسینہ سے جڑا ہوا ہے۔